
شاعری: پاکستان میں اقبال کے تصور فرنگی سےنو استعماری ذہنیت
Title: Poetry: Iqbal’s concept of farangi to neo-colonial mindset and its relevance in Pakistan – شاعری: پاکستان میں اقبال کے تصور فرنگی سےنو استعماری ذہنیت
Date: جنوری-جون 2025
Summary:
علامہ اقبال نے اکثر مغربی تہذیب بالخصوص اس کی مادیت پرستی، سامراجیت اور اخلاقی زوال کے لیے “فرنگ” (فرنگ) کی اصطلاح استعمال کی۔ انہوں نے مغربی سائنس اور نظم و ضبط کی تعریف کرتے ہوئے اس کے روحانی خالی پن اور نوآبادیاتی رویوں پر تنقید کی۔ فرنگ پر ان کی شاعری کی چند طاقتور سطریں یہ ہیں
ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوام
[1] !وائے تمنائے خام وائے تمنائے خام
فرنگ سے بہت آگے ہے منزلِ مسلمان
[2]قدم اٹھا! يہ مقام انتہائے راہ نہيں
نو استعماری ذہنیت ایک ایسا فکری، سیاسی اور معاشی ڈھانچہ ہے جس میں بظاہر آزادی کے باوجود ترقی پذیر ممالک بالواسطہ طور پر مغربی طاقتوں کے زیرِ اثر رہتے ہیں۔ اگرچہ رسمی طور پر پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے، مگر معاشی، تعلیمی، ثقافتی اور فکری سطح پر مغربی اثرات کی گہری چھاپ نمایاں ہے۔ آج کے دور میں یہ استعماری قوتیں بندوق، توپ یا قبضے کے ذریعے نہیں بلکہ نظریات، تعلیمی نظام، میڈیا، مالیاتی اداروں اور گلوبلائزیشن کے خوشنما نعروں کے ذریعے قوموں کی خودی کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں[3]۔
پاکستان میں یہ ذہنیت تعلیمی اداروں، مذہبی بیانیے، سیاسی نظام اور معاشی پالیسیوں میں گہرائی سے پیوست ہو چکی ہے۔ مغربی سرمایہ دارانہ نظام نے فرد کے ضمیر، معاشرتی انصاف، روحانی قدروں اور قومی خودداری کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ یہ اشعار اس پس منظر میں ایک مزاحمتی اور بیدار کن صدا کی حیثیت رکھتے ہیں۔
شاعری میں ابلیسی نظام کا حوالہ اس بات کی علامت ہے کہ کس طرح انسانی اقدار کو استحصالی نظام کے تحت مسخ کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی ادارے، جو کبھی کردار سازی اور علم کے قلعے ہوا کرتے تھے، اب صرف تجارتی مراکز بن چکے ہیں جہاں علم فروخت ہوتا ہے اور ضمیر نیلام۔ ایسے ماحول میں شاعر اپنے قلم کے ذریعے سچ بولنے، ضمیر کو جگانے، اور باطل کے مقابل حق کی صدا بلند کرنے کا بیڑہ اٹھاتا ہے۔
یہ تخلیق دراصل ایک فکری انقلاب کی دعوت ہے، ایک ایسی شعوری بیداری جو نوجوان نسل کو مغربی ذہنی غلامی سے نجات دلا کر ایک باوقار، خودمختار اور خدا پر توکل رکھنے والی ملت کی تشکیل کی طرف راغب کرے۔
